Pages

Sunday, 11 August 2013

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ (نام و نسب، جائے ولادت، شکل و صورت، بشارت نبوی)

نام و نسب

نعمان نام، ابو حنیفہ کنیت اور امام اعظم آپ کا لقب ہے۔ خطیب بغدادیؒ نے شجرۂ نسب کے سلسلہ میں امام صاحبؒ کے پوتے اسماعیل کی زبانی یہ روایت نقل کی ہے کہ ’’میں اسماعیل بن حماد بن نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان ہوں۔ ہم لوگ نسلِ فارس سے ہیں اور کبھی کسی کی غلامی میں نہیں آئے۔ ہمارے دادا ابو حنیفہ ۸۰ھ میں پیدا ہوئے۔ ہمارے پر دادا ثابت بچپن میں حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، حضرت علیؓ نے ان کے لئے بر کت کی دعا کی، اللہ نے یہ دعا ہمارے حق میں قبول فرمائی۔
امام صاحبؒ عجمی النسل تھے۔ آپؒ کے پوتے اسماعیل کی روایت سے اس قدر اور ثابت ہے کہ ان کا خاندان فارس کا ایک معزز اور مشہور خاندان تھا۔ فارس میں رئیسِ شہر کو مر زبان کہتے ہیں جو امام صاحبؒ کے پر دادا کا لقب تھا۔
اکثر مورخین فرماتے ہیں کہ آپ ۸۰ھ میں عراق کے دارالحکومت کوفہ میں پیدا ہوئے۔ اُس وقت وہاں صحابہ میں سے عبداللہ بن ابی اوفیؓ موجود تھے، عبد الملک بن مروان کی حکومت تھی اور حجاج بن یوسف عراق کا گورنر تھا۔
یہ وہ عہد تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے جمالِ مبارک سے جن لوگوں کی آنکھیں روشن ہوئی تھیں (یعنی صحابہؓ ) ان میں سے چند بزرگ بھی موجود تھے جن میں سے بعض امام حنیفہؒ کے آغازِ شباب تک زندہ رہے۔ مثلاً انس بن مالکؓ جو رسول  کے خادمِ خاص تھے ۹۳ھ میں انتقال کیا اور ابو طفیل عامر بن واثلہؓ ۱۱۰ھ تک زندہ رہے۔ ابن سعد نے روایت کی ہے۔ جس کی سند میں کچھ نقصان نہیں۔ کہ امام ابو حنیفہؒ نے انس بن مالکؓ کو دیکھا تھا حافظ ابن حجر نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ امام صاحبؒ نے بعض صحابہؓ کو دیکھا تھا۔ 

جائے ولادت


کوفہ جو امام ابو حنیفہؒ کا مولد و مسکن ہے، اسلام کی وسعت و تمدن کا گویا دیباچہ تھا۔ اصل عرب کی روز افزوں ترقی کے لئے عرب کی مختصر آبادی کافی نہ تھی۔ اس ضرورت سے حضرت عمرؓ نے سعد بن وقاصؓ کو جو اس وقت حکومتِ کسریٰ کا خاتمہ کر کے مدائن میں اقامت گزیں تھے، خط لکھا : ’’مسلمانوں کے لئے ایک شہر بساؤ جو ان کا دارالہجرت اور قرار گاہ ہو‘‘ سعدؓ نے کوفہ کی زمین پسند کی۔
۱۷ ھ میں اس کی بنیاد کا پتھر رکھا گیا۔ اور معمولی سادہ وضع کی عمارتیں تیار ہوئیں۔ اسی وقت عرب کے قبائل ہر طرف سے آ کر آباد ہونے شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ تھوڑے دنوں میں وہ عرب کا ایک خطہ بن گیا۔
حضرت عمرؓ نے یمن کے بارہ ہزار اور نزار کے آٹھ ہزار آدمیوں کے لئے جو وہاں جا کر آباد ہوئے روزینے مقرر کر دیئے۔ چند روز میں جمعیت کے اعتبار سے کوفہ نے وہ حالت پیدا کی کہ جنابِ فاروقؓ کوفہ کو ’’رمح اﷲ، کنز الایمان، جمجمۃ العرب‘‘ یعنی خدا کا علم، ایمان کا خزانہ، عرب کا سر، کہنے لگے۔ اور خط لکھتے تو اس عنوان سے لکھتے تھے ’’الیٰ رأس الا سلام، الی رأس العرب۔ ‘‘ بعد میں حضرت علیؓ نے اس شہر کو دارالخلافہ قرار دیا۔
صحابہؓ میں سے ایک ہزار پچاس اشخاص جن میں چوبیس وہ بزرگ تھے جو غزوۂ بدر میں رسول اﷲ کے ہمرکاب رہے تھے، وہاں گئے اور بہتوں نے سکونت اختیار کر لی۔ ان بزرگوں کی بدولت ہر جگہ حدیث و روایت کے چرچے پھیل گئے تھے اور کوفہ کا ایک ایک گھر حدیث و روایت کی درسگاہ بنا ہوا تھا۔

بشارتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم :۔

ایک حدیث میں نبیﷺ نے فرمایا: لوکان الا یمان عند الثریا لاتنالہ العرب لتناولہ رجل من ابناء فارس۔
اگر ایمان ثریا ستارہ کے پاس بھی ہو اور عرب ا س کو نہ پا سکتے ہوں تو بھی اس کو ایک فارسی آدمی پالے گا۔
جلیل القدر عالم و حافظ علامہ جلال الدین سیوطیؒ اس حدیث سے قطعی طور پر امام ابو حنیفہؒ کو مراد لیتے ہیں اس لئے کہ کوئی بھی فارس کا رہنے والا امام صاحبؒ کے برابر علم والا نہیں ہو سکا۔

شکل و صورت

خطیب بغدادیؒ نے امام ابو یوسفؒ سے روایت کیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ متوسط قد، حسین و جمیل، فصیح و بلیغ اور خوش آواز تھے، دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ امام صاحبؒ خوبصورت داڑھی، عمدہ کپڑے، اچھے جوتے، خوشبودار اور بھلی مجلس والے رعب دار آدمی تھے۔ آپ کی گفتگو نہایت شیریں، آواز بلند اور صاف ہوا کرتی تھی۔ کیسا ہی پیچیدہ مضمون ہو نہایت صفائی اور فصاحت سے ادا کر سکتے تھے۔ مزاج میں ذرا تکلف تھا۔ اکثر خوش لباس رہتے تھے، ابو مطیعانؒ کے شاگرد کا بیان ہے کہ ’’میں نے ایک دن ان کو نہایت قیمتی چادر اور قمیص پہنے دیکھا جن کی قیمت کم از کم چار سو درہم رہی ہو گی۔


بچپن کا زمانہ

امام صاحبؒ کے بچپن کا زمانہ نہایت پر آشوب زمانہ تھا۔ حجاج بن یوسف، خلیفہ عبد الملک کی طرف سے عراق کا گورنر تھا۔ ہر طرف ایک قیامت برپا تھی۔ حجاج کی سفاکیاں زیادہ تر انہیں لوگوں پر مبذول تھیں جو ائمہ مذاہب اور علم و فضل کی حیثیت سے مقتدائے عام تھے۔
خلیفہ عبد الملک نے ۸۶ھ میں وفات پائی اور اس کا بیٹا ولید تخت نشین ہوا۔
اس زمانہ کی نسبت حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ فرمایا کر تے تھے۔ ’’ولید شام میں، حجاج عراق میں، عثمان حجاز میں، قرہ مصر میں، واللہ تمام دنیا ظلم سے بھری تھی‘‘۔
ملک کی خوش قسمتی تھی کہ حجاج ۹۵ھ میں مر گیا۔ ولید نے بھی ۹۶ھ میں وفات پائی۔ ولید کے بعد سلیمان بن عبد الملک نے مسندِ خلافت کو زینت دی جس کی نسبت مورخین کا بیان ہے کہ خلفاء بنو امیّہ میں سب سے افضل تھا۔ سلیمانؒ نے اسلامی دنیا پر سب سے بڑا یہ احسان کیا کہ مرتے دم تحریری وصیت کی کہ میرے بعد عمر بن عبد العزیزؒ تخت نشیں ہوں۔ سلیمان نے ۹۹ھ میں وفات پائی اور وصیت کے موافق عمر بن عبد العزیزؒ مسندِ خلافت پر بیٹھے جن کا عدل و انصاف اور علم و عمل معروف و مشہور ہے۔
غرض حجاج و ولید کے عہد تک تو امام ابو حنیفہؒ کو تحصیلِ علم کی طرف متوجہ ہونے کی نہ رغبت ہو سکتی تھی نہ کافی موقع مل سکتا تھا۔ تجارت باپ دادا کی میراث تھی ا س لئے خز (ایک خاص قسم کے کپڑے) کا کارخانہ قائم کیا اور حسنِ تدبیر سے اسکو بہت کچھ ترقی دی۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔