تعلیم و تربیت
سلیمان کے عہدِ خلافت میں جب درس و تدریس کے چرچے زیادہ عام ہوئے تو آپ کے دل میں بھی ایک تحریک پیدا ہوئی، حسنِ اتفاق کہ ان ہی دنوں میں ایک واقعہ پیش آیا جس سے آپ کے ارادہ کو اور بھی استحکام ہوا۔
امام صاحبؒ ایک دن بازار جا رہے تھے۔ امام شعبیؒ جو کوفہ کے مشہور امام تھے، ان کا مکان راہ میں تھا، سامنے سے نکلے تو انہوں نے یہ سمجھ کر کہ کوئی نوجوان طالب علم ہے بلا لیا اور پوچھا ’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘ انہوں نے ایک سودا گر کا نام لیا۔ امام شعبیؒ نے کہا ’’میرا مطلب یہ نہ تھا۔ بتاؤ تم پڑھتے کس سے ہو؟ ‘‘ انہوں نے افسوس کے ساتھ جواب دیا ’’ کسی سے نہیں۔ ‘‘ شعبیؒ نے کہا ’’مجھ کو تم میں قابلیت کے جوہر نظر آتے ہیں، تم علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو۔ ‘‘ یہ نصیحت ان کے دل کو لگی اور نہایت اہتمام سے تحصیلِ علم پر متوجہ ہوئے۔
علمِ کلام کی طرف توجہ
علمِ کلام زمانۂ ما بعد میں اگر چہ مدون و مرتب ہو کر اکتسابی علوم میں داخل ہو گیا۔ لیکن اس وقت تک اس کی تحصیل کے لئے صرف قدرتی ذہانت اور مذہبی معلومات درکار تھیں۔ قدرت نے امام ابو حنیفہؒ میں یہ تمام باتیں جمع کر دی تھیں۔ رگوں میں عراقی خون اور طبیعت میں زور اور جدت تھی۔ امام ابو حنیفہؒ نے اس فن میں ایسا کمال پیدا کیا کہ بڑے بڑے اساتذۂ فن بحث کر نے میں ان سے جی چراتے تھے۔
تجارت کی غرض سے اکثر بصرہ جانا ہوتا تھا جو تمام فرقوں کا دنگل اور خاص کر خارجیوں کا مر کز تھا۔ اباضیہ، صغزیہ، حشویہ وغیرہ سے اکثر بحثیں کیں اور ہمیشہ غالب رہے۔ بعد میں انہوں نے قانون میں منطقی استدلال اور عقل کے استعمال کا جو کمال دکھایا اور بڑے بڑے مسائل کو حل کرنے میں جو شہرت حاصل کی وہ اسی ابتدائی ذہنی تربیت کا نتیجہ تھا۔
علم فقہ کی تحصیل کا پسِ منظر
شروع شروع میں تو امام صاحبؒ علمِ کلام کے بہت دلدادہ رہے لیکن جس قدر عمر اور تجربہ بڑھتا جاتا تھا ان کی طبیعت رکتی جاتی تھی خود ان کا بیان ہے کہ ’’ آغازِ عمر میں اس علم کو سب سے افضل جانتا تھا، کیونکہ مجھ کو یقین تھا کہ عقیدہ و مذہب کی بنیاد انہی باتوں پر ہے۔ لیکن پھر خیال آیا کہ صحابہ کبارؓ ان بحثوں سے ہمیشہ الگ رہے۔ حالانکہ ان باتوں کی حقیقت ان سے زیادہ کون سمجھ سکتا تھا۔ ان کی توجہ جس قدر تھی، فقہی مسائل پر تھی اور یہی مسائل وہ دوسروں کو تعلیم دیتے تھے۔ ساتھ ہی خیال گزرا کہ جو لوگ علمِ کلام میں مصروف ہیں ان کا طرزِ عمل کیا ہے۔ اس خیال سے اور بھی بے دلی پیدا ہوتی کیونکہ ان لوگوں میں وہ اخلاقی پاکیزگی اور روحانی اوصاف نہ تھے جو اگلے بزرگوں کا تمغہ امتیاز تھا۔
اسی زمانہ میں ایک دن ایک عورت نے آ کر طلاق کے سلسلے میں مسئلہ پوچھا۔ امام صاحب خود تو بتا نہ سکے۔ عورت کو ہدایت کی کہ امام حمادؒ جن کا حلقۂ درس یہاں سے قریب ہے جا کر پوچھے، یہ بھی کہہ دیا کہ حماد جو کچھ بتائیں مجھ سے کہتی جانا۔ تھوڑی دیر کے بعد آئی اور کہا کہ حماد نے یہ جواب دیا۔ امام صاحبؒ فرماتے ہیں۔ مجھ کو سخت حیرت ہوئی اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا اور حماد کے حلقۂ درس میں جا بیٹھا۔
حمادؒ کی شاگردی
حمادؒ کوفہ کے مشہور امام اور استادِ وقت تھے۔ حضرت انسؓ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص تھے،حدیث سنی تھی اور بڑے بڑے تابعین کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے تھے۔ اس وقت کوفہ میں انہی کا مدرسہ مرجعِ عام سمجھا جاتا تھا۔ اس مدرسۂ فکر کی ابتداء حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان کے شاگرد شریحؒ، علقمہؒ اور مسروقؒ اس مدرسہ کے نامور ائمہ ہوئے جن کا شہرہ اس وقت تمام دنیائے اسلام میں تھا۔ پھر ابراہیم نخعیؒ اور ان کے بعد حمادؒ تک اس کی امامت پہنچی۔
حضرت علیؓ و عبد اللہ بن مسعودؓ سے فقہ کا جو سلسلہ چلا آتا تھا اس کا مدار انہی پر رہ گیا تھا۔ ان وجوہ سے امام ابو حنیفہؒ نے علمِ فقہ پڑھنا چاہا تو استادی کے لئے انہی کو منتخب کیا۔ ایک نئے طالب علم ہونے کی وجہ سے درس میں پیچھے بیٹھتے۔ لیکن چند روز کے بعد جب حماد کو تجربہ ہو گیا کہ تمام حلقہ میں ایک شخص بھی حافظہ اور ذہانت میں اس کا ہمسر نہیں ہے تو حکم دے دیا کہ ’’ ابو حنیفہؒ سب سے آگے بیٹھا کریں۔
حضرت حمادؒ کے حلقۂ درس میں ہمیشہ حاضر ہو تے رہے۔ خود امام صاحبؒ کا بیان ہے کہ ’’میں دس برس تک حمادؒ کے حلقہ میں ہمیشہ حاضر ہوتا رہا اور جب تک وہ زندہ رہے ان کی شاگردی کا تعلق کبھی نہیں چھوڑا۔ انہی دنوں حمادؒ کا ایک رشتہ دار جو بصرہ میں رہتا تھا انتقال کر گیا تو وہ مجھے اپنا جانشین بنا کر بغرض تعزیت سفر پر روانہ ہو گئے۔
چونکہ مجھ کو اپنا جانشین مقرر کر گئے تھے، تلامذہ اور اربابِ حاجت نے میری طرف رجوع کیا۔ بہت سے ایسے مسئلے پیش آئے جن میں استاد سے میں نے کوئی روایت نہیں سنی تھی اس لئے اپنے اجتہاد سے جواب دیئے اور احتیاط کیلئے ایک یادداشت لکھتا گیا۔ دو مہینہ کے بعد حماد بصرہ سے واپس آئے تو میں نے وہ یادداشت پیش کی۔ کل ساٹھ مسئلے تھے، ان میں سے انہوں نے بیس غلطیاں نکالیں، باقی کی نسبت فرمایا کہ تمہارے جواب صحیح ہیں۔ میں نے عہد کیا کہ حمادؒ جب تک زندہ ہیں ان کی شاگردی کا تعلق کبھی نہ چھوڑوں گا۔
متعدد طریق سے یہ بھی مروی ہے کہ آپؒ نے قرأت امام عاصمؒ سے سیکھی جن کا شمار قراءِ سبعہ میں ہو تا ہے اور انہیں کی قرأت کے مطابق قرآن حفظ کیا۔
حدیث کی تحصیل
حمادؒ کے زمانہ میں ہی امام صاحبؒ نے حدیث کی طرف توجہ کی کیونکہ مسائلِ فقہ کی مجتہدانہ تحقیق جو امام صاحبؒ کو مطلوب تھی حدیث کی تکمیل کے بغیر ممکن نہ تھی۔ لہذا کوفہ میں کوئی ایسا محدث باقی نہ بچا جس کے سامنے امام صاحبؒ نے زانوئے شاگردی تہ نہ کیا ہو اور حدیثیں نہ سیکھیں ہوں۔ ابو المحاسن شافعیؒ نے جہاں ان کے شیوخِ حدیث کے نام گنائے ہیں، ان میں ترا نوے (۹۳) شخصوں کی نسبت لکھا ہے کہ وہ لوگ کوفہ کے رہنے والے یا اس اطراف کے تھے۔ اور ان میں اکثر تابعی تھے۔
مکہ کا سفر
امام ابو حنیفہؒ کو اگرچہ ان درسگاہوں سے حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ ہاتھ آیا۔ تاہم تکمیل کی سند حاصل کر نے کے لئے حرمین جانا ضروری تھا جو علومِ مذہبی کے اصل مراکز تھے۔ جس زمانہ میں امام ابو حنیفہؒ مکہ پہنچے۔ درس و تدریس کا نہایت زور تھا۔ متعدد اساتذہ جو فنِ حدیث میں کمال رکھتے تھے اور اکثر صحابہؓ کی خدمت سے مستفید ہوئے، انکی الگ الگ درسگاہ قائم تھی۔ ان میں عطا ئؒ مشہور تابعی تھے جو اکثر صحابہؓ کی خدمت میں رہے اور ان کی فیضِ صحبت سے اجتہاد کا رتبہ حاصل کیا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، ابن عمرؓ، ابن زبیرؓ، اسامہ بن زیدؓ، جابر بن عبداللہؓ، زید بن ارقمؓ، ابو دردائؓ، ابوہریرہؓ اور بہت سے صحابہ سے حدیثیں سنی تھیں۔ مجتہدین صحابہؓ ان کے علم و فضل کے معترف تھے۔ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے تھے کہ ’’عطاء بن رباح کے ہوتے ہوئے لوگ میرے پاس کیوں آتے ہیں؟‘‘ بڑے بڑے ائمہ حدیث مثلاً اوزاعی، زُہریؒ، عمرو بن دینارؒ انہی کے حلقۂ درس سے نکل کر استاد کہلائے۔
امام ابو حنیفہؒ استفادہ کی غرض سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ روز بروز امام صاحبؒ کی ذہانت و طباعی کے جوہر ظاہر ہوتے گئے اور اس کے ساتھ استاد کی نظر میں آپ کا وقار بھی بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ جب حلقۂ درس میں جاتے تو عطاء اوروں کو ہٹا کر امام صاحبؒ کو اپنے پہلو میں جگہ دیتے۔ عطائؒ ۱۱۵ھ تک زندہ رہے اس مدت میں امام ابو حنیفہؒ ان کی خدمت میں اکثر حاضر رہے اور مستفید ہوئے۔
عطاؒ ء کے سوا مکہ معظمہ کے اور محدثین جن سے امام صاحبؒ نے حدیث کی سند لی۔ ان میں عکرمہؒ کا ذکر خصوصیت سے کیا جا سکتا ہے۔ عکرمہؒ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے غلام اور شاگرد تھے۔ انہوں نے نہایت توجہ اور کوشش سے ان کی تعلیم و تربیت کی تھی یہاں تک کہ اپنی زندگی ہی میں اجتہاد و فتویٰ کا مجاز کر دیا تھا۔ امام شعبیؒ کہا کرتے تھے کہ قرآن کا جاننے والا عکرمہؒ سے بڑھ کر نہیں رہا۔ سعید بن جبیرؒ سے کسی نے پوچھا کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر بھی کوئی عالم ہے فرمایا: ہاں! عکرمہؒ۔
مدینہ کا سفر
اسی زمانہ میں ابو حنیفہؒ نے مدینہ کا قصد کیا کہ حدیث کا مخزن اور نبوت کا اخیر قرار گاہ تھی۔ صحابہ کے بعد تابعین کے گروہ میں سے سات اشخاص علم فقہ و حدیث کے مرجع بن گئے تھے۔ امام ابو حنیفہؒ جب مدینہ پہنچے تو ان بزرگوں میں سے صرف دو اشخاص زندہ تھے سلیمانؒ اور سالم بن عبد اللہؒ۔ سلیمان حضرت میمونہؓ کے جو رسولﷺ کی ازواج مطہراتؓ میں سے تھیں، غلام تھے۔ اور فقہاء سبعہ میں فضل و کمال کے لحاظ سے ان کا دوسرا نمبر تھا۔ سالمؒ حضرت فاروق اعظمؓ کے پوتے تھے اور اپنے والد بزرگوار سے تعلیم پائی تھی۔ امام ابو حنیفہؒ دونوں بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے حدیثیں روایت کیں۔
امام ابو حنیفہؒ کی تعلیم کا سلسلہ اخیر زندگی تک قائم رہا اکثر حرمین جاتے اور مہینوں قیام کر تے تھے۔ آپ نے وہاں کے فقہاء و محدثین سے تعارف حاصل کیا اور حدیث کی سند لی۔
امام صاحبؒ کے اساتذہ
امام ابو حفص کبیرؒ نے امام ابو حنیفہؒ کے اساتذہ کے شمار کرنے کا حکم دیا۔ حکم کے مطابق شمار کئے گئے تو ان کی تعداد چار ہزار تک پہنچی۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں جہاں ان کے شیوخِ حدیث کے نام گنائے ہیں اخیر میں لکھ دیا ہے ’’وخلق ٌکثیرٌ‘‘۔ حافظ ابو المحاسن شافعیؒ نے تین سوانیس(۳۱۹) شخصیتوں کے نام بقیدِ نسب لکھے ہیں۔
امام صاحبؒ نے ایک گروہِ کثیر سے استفادہ کیا جو بڑے بڑے محدث اور سند و روایت کے مرجعِ عام تھے۔ مثلاً اما م شعبیؒ، سلمہ بن کہیلؒ، ابو اسحاق سبعیؒ، سماک بن حربؒ، محارب بن ورثائؒ، عون بن عبد اللہؒ، ہشام بن عروہؒ، اعمشؒ، قتادہؒ، شعبہؒ اور عکرمہؒ۔ ہم مختصراً آپؒ کے خاص خاص شیوخ کا ذکر کر رہے ہیں جن سے آپؒ نے مدتوں استفادہ کیا ہے۔
امام شعبیؒ۔ یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے اول اول امام ابو حنیفہؒ کو تحصیلِ علم کی رغبت دلائی تھی۔ بہت سے صحابہؓ سے حدیثیں روایت کی تھیں۔ مشہور ہے کہ پانسو صحابہؓ کو دیکھا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان کو ایک بار مغازی کا درس دیتے دیکھا تو فرمایا کہ ’’ واللہ! یہ شخص اس فن کو مجھ سے اچھا جانتا ہے‘‘۔ ۱۰۶ھ میں وفات پائی۔
سلمہ بن کہیلؒ مشہور محدث اور تابعی تھے۔ ابن سعدؒ نے ان کو کثیر الحدیث لکھا ہے۔ ابن مہدیؒ کا قول تھا کہ کوفہ میں چار اشخاص سب سے زیادہ صحیح الروایت تھے: منصورؒ، سلمہ بن کہیلؒ، عمرو بن مرہؒ، ابو حصینؒ۔
ابو اسحاق سبیعیؒ کبارِ تابعین میں سے تھے۔ عبد اللہؓ بن عباسؒ، عبد اللہ بن عمرؓ، ابن زبیرؓ، نعمان بن بشیرؓ، زید بن ارقمؓ سے حدیثیں سنی تھیں۔ عجلیؒ نے کہا ہے کہ اڑتیس صحابہؓ سے ان کو بالمشافہ روایت حاصل ہے۔
محاربؒ بن ورثاء نے عبد اللہ بن عمرؓ اور جابرؓ وغیرہ سے روایت کی۔ امام سفیان ثوریؒ کہا کر تے تھے کہ ’’ میں نے کسی زاہد کو نہیں دیکھا جس کو محاربؒ پر ترجیح دوں‘‘۔
علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ ’’محاربؒ عموماً حجت ہیں۔ ‘‘ کوفہ میں منصبِ قضا پر معمور تھے۔ ۱۱۶ھ میں وفات پائی۔
عونؒ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور عبد اللہ بن عمرؓ سے حدیثیں روایت کیں۔ نہایت ثقہ اور پرہیزگار تھے۔
ہشام بن عروہؒ معزز و مشہور تابعی تھے بہت سے صحابہؓ سے حدیثیں روایت کیں۔ بڑے بڑے ائمۂ حدیث مثلاً سفیان ثوریؒ، امام مالکؒ، سفیان بن عیینہؒ ان کے شاگرد تھے۔
خلیفہ منصور ان کا احترام کیا کر تا تھا۔ ان کے جنازہ کی نماز بھی منصور نے ہی پڑھائی تھی ابن سعدؒ نے لکھا ہے وہ ثقہ اور کثیر الحدیث تھے۔
اعمشؒ کوفہ کے مشہور امام تھے۔ صحابہؓ میں سے انس بن مالکؓ سے ملے تھے اور عبدللہ بن اونیؒ سے حدیث سنی تھی۔ سفیان ثوریؒ اور شعبہؒ ان کے شاگرد ہیں۔
قتادہؒ بہت بڑے محدث اور مشہور تابعی تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ و عبد اللہ بن سرخسؓ و ابو الطفیلؓ اور دیگر صحابہ سے حدیثیں روایت کیں۔ حضرت انسؓ کے دو شاگرد جو نہایت نامور ہیں ان میں ایک ہیں۔ اس خصوصیت میں ان کو نہایت شہرت تھی کہ حدیث کو بعینہ ادا کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبلؒ نے ان کی فقہ و واقفیتِ اختلاف و تفسیر دانی کی نہایت مدح کی ہے اور کہا ہے کہ ’’کو ئی شخص ان باتوں میں ان کے برا بر ہو تو ہو مگر ان سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔
شعبہؒ بھی بڑے رتبہ کے محدث تھے۔ سفیان ثوریؒ نے فن حدیث میں ان کو امیر المومنین کہا ہے۔ عراق میں یہ پہلے شخص ہیں جس نے جرح و تعدیل کے مراتب مقرر کئے۔ امام شافعیؒ فرمایا کر تے تھے کہ شعبہؒ نہ ہو تے تو عراق میں حدیث کا رواج نہ ہوتا۔ شعبہؒ کا امام ابو حنیفہ کے ساتھ ایک خاص ربط تھا۔ غائبانہ ان کی ذہانت و خوبئ فہم کی تعریف کر تے تھے۔ ایک بار امام صاحبؒ کا ذکر آیا تو کہا جس یقین کے ساتھ میں یہ جانتا ہوں کہ آفتاب روشن ہے اسی یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ علم اور ابو حنیفہؒ روشن ہیں۔
یحیٰ بن معین (جو امام بخاریؒ کے استاذ ہیں) سے کسی نے پوچھا کہ آپ ابو حنیفہؒ کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ فرمایا اس قدر کافی ہے کہ شعبہؒ نے انکو حدیث و روایت کی اجازت دی اور شعبہ آخر شعبہؒ ہی ہیں۔ بصرہ کے اور شیوخ جن سے ابو حنیفہؒ نے حدیثیں روایت کیں۔ ان میں عبد الکریم بن امیہؒ اور عاصم بن سلیمان الاحولؒ زیادہ ممتاز ہیں۔
استاد کی عزت
امام صاحبؒ کو طلبِ علم میں کسی سے عار نہ تھی۔ امام مالکؒ عمر میں ان سے تیرہ برس کم تھے۔ ان کے حلقۂ درس میں بھی اکثر حاضر ہوئے اور حدیثیں سنیں۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں لکھا ہے کہ امام مالکؒ کے سامنے ابو حنیفہؒ اس طرح مؤدب بیٹھتے تھے جس طرح شاگرد استاد کے سامنے بیٹھتا ہے۔ اس کو بعض کوتاہ بینوں نے امام صاحبؒ کی کسرِ شان پر محمول کیا ہے لیکن ہم اس کو علم کی قدر شناسی اور شرافت کا تمغہ سمجھتے ہیں۔
امام صاحبؒ کی قدر
امام صاحبؒ کے اساتذہ ان کا اس قدر ادب و احترام کرتے تھے کہ لوگوں کو تعجب ہوتا تھا۔ محمد بن فضلؒ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ امام ابو حنیفہؒ ایک حدیث کی تحقیق کے لئے خطیبؒ کے پاس گئے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ خطیبؒ نے ان کو آتے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت تعظیم کے ساتھ لا کر اپنے برابر بٹھایا۔
عمرو بن دینارؒ جو مکہ کے مشہور محدث تھے۔ ابو حنیفہؒ کے ہوتے ہوئے حلقۂ درس میں اور کسی کی طرف خطاب نہیں کرتے تھے۔
امام مالکؒ بھی ان کا نہایت احترام کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن مبارکؒ کی زبانی منقول ہے کہ میں امام مالکؒ کے درسِ حدیث میں حاضر تھا۔ ایک بزرگ آئے جن کی انہوں نے نہایت تعظیم کی اور اپنے برابر بٹھایا۔ ان کے جانے کے بعد فرمایا ’’ جانتے ہو یہ کون شخص تھا؟ یہ ابو حنیفہؒ عراقی تھے جو اس ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ ‘‘ ذرا دیر کے بعد ایک اور بزرگ آئے امام مالکؒ نے ان کی بھی تعظیم کی لیکن نہ اس قدر جتنی ابو حنیفہؒ کی کی تھی، وہ اٹھ گئے تو لوگوں سے کہا ’’یہ سفیان ثوریؒ تھے۔ ‘‘
علمی ترقی کا ایک سبب
امام صاحبؒ کی علمی ترقی کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ ان کو ایسے بڑے بڑے اہل کمال کی صحبتیں میسر آئیں جن کا ابھی تذکرہ گزرا۔ اور جن شہروں میں ان کو رہنے کا اتفاق ہوا یعنی کوفہ، بصرہ، مکہ اور مدینہ، یہ وہ مقامات تھے کہ مذہبی روایتیں وہاں کی ہوا میں سرایت کر گئی تھیں۔ علماء سے ملنے اور علمی جلسوں میں شریک ہو نے کا شوق امامؒ کی خمیر میں داخل تھا۔ ساتھ ہی ان کی شہرت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ جہاں جاتے تھے استفادہ، ملاقات، مناظرہ کی غرض سے خود ان کے پاس ہزاروں آدمیوں کا مجمع رہتا تھا۔
تاریخِ بغداد کے حوالہ سے شیخ ابو زہرہ لکھتے ہیں۔ ’’ ایک روز امام ابو حنیفہؓ منصور کے دربار میں آئے وہاں عیسی بن موسی بھی موجود تھا اس نے منصور سے کہا یہ اس عہد کے سب سے بڑے عالم دین ہیں۔
منصور نے امام صاحب کو مخاطب ہو کر کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نعمان ! آپ نے علم کہاں سے سیکھا؟‘‘ فرمایا ’’حضرت عمرؓ کے تلامذہ سے، نیز شاگردانِ علیؓ سے اور تلامذۂ عبداللہ بن مسعودؓ سے۔ ‘‘ منصور بولا ’’ آپ نے بڑا قابلِ اعتماد علم حاصل کیا۔ ‘‘ (حیات حضرت امام ابو حنیفہؒ)
سلیمان کے عہدِ خلافت میں جب درس و تدریس کے چرچے زیادہ عام ہوئے تو آپ کے دل میں بھی ایک تحریک پیدا ہوئی، حسنِ اتفاق کہ ان ہی دنوں میں ایک واقعہ پیش آیا جس سے آپ کے ارادہ کو اور بھی استحکام ہوا۔
امام صاحبؒ ایک دن بازار جا رہے تھے۔ امام شعبیؒ جو کوفہ کے مشہور امام تھے، ان کا مکان راہ میں تھا، سامنے سے نکلے تو انہوں نے یہ سمجھ کر کہ کوئی نوجوان طالب علم ہے بلا لیا اور پوچھا ’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘ انہوں نے ایک سودا گر کا نام لیا۔ امام شعبیؒ نے کہا ’’میرا مطلب یہ نہ تھا۔ بتاؤ تم پڑھتے کس سے ہو؟ ‘‘ انہوں نے افسوس کے ساتھ جواب دیا ’’ کسی سے نہیں۔ ‘‘ شعبیؒ نے کہا ’’مجھ کو تم میں قابلیت کے جوہر نظر آتے ہیں، تم علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو۔ ‘‘ یہ نصیحت ان کے دل کو لگی اور نہایت اہتمام سے تحصیلِ علم پر متوجہ ہوئے۔
علمِ کلام کی طرف توجہ
علمِ کلام زمانۂ ما بعد میں اگر چہ مدون و مرتب ہو کر اکتسابی علوم میں داخل ہو گیا۔ لیکن اس وقت تک اس کی تحصیل کے لئے صرف قدرتی ذہانت اور مذہبی معلومات درکار تھیں۔ قدرت نے امام ابو حنیفہؒ میں یہ تمام باتیں جمع کر دی تھیں۔ رگوں میں عراقی خون اور طبیعت میں زور اور جدت تھی۔ امام ابو حنیفہؒ نے اس فن میں ایسا کمال پیدا کیا کہ بڑے بڑے اساتذۂ فن بحث کر نے میں ان سے جی چراتے تھے۔
تجارت کی غرض سے اکثر بصرہ جانا ہوتا تھا جو تمام فرقوں کا دنگل اور خاص کر خارجیوں کا مر کز تھا۔ اباضیہ، صغزیہ، حشویہ وغیرہ سے اکثر بحثیں کیں اور ہمیشہ غالب رہے۔ بعد میں انہوں نے قانون میں منطقی استدلال اور عقل کے استعمال کا جو کمال دکھایا اور بڑے بڑے مسائل کو حل کرنے میں جو شہرت حاصل کی وہ اسی ابتدائی ذہنی تربیت کا نتیجہ تھا۔
علم فقہ کی تحصیل کا پسِ منظر
شروع شروع میں تو امام صاحبؒ علمِ کلام کے بہت دلدادہ رہے لیکن جس قدر عمر اور تجربہ بڑھتا جاتا تھا ان کی طبیعت رکتی جاتی تھی خود ان کا بیان ہے کہ ’’ آغازِ عمر میں اس علم کو سب سے افضل جانتا تھا، کیونکہ مجھ کو یقین تھا کہ عقیدہ و مذہب کی بنیاد انہی باتوں پر ہے۔ لیکن پھر خیال آیا کہ صحابہ کبارؓ ان بحثوں سے ہمیشہ الگ رہے۔ حالانکہ ان باتوں کی حقیقت ان سے زیادہ کون سمجھ سکتا تھا۔ ان کی توجہ جس قدر تھی، فقہی مسائل پر تھی اور یہی مسائل وہ دوسروں کو تعلیم دیتے تھے۔ ساتھ ہی خیال گزرا کہ جو لوگ علمِ کلام میں مصروف ہیں ان کا طرزِ عمل کیا ہے۔ اس خیال سے اور بھی بے دلی پیدا ہوتی کیونکہ ان لوگوں میں وہ اخلاقی پاکیزگی اور روحانی اوصاف نہ تھے جو اگلے بزرگوں کا تمغہ امتیاز تھا۔
اسی زمانہ میں ایک دن ایک عورت نے آ کر طلاق کے سلسلے میں مسئلہ پوچھا۔ امام صاحب خود تو بتا نہ سکے۔ عورت کو ہدایت کی کہ امام حمادؒ جن کا حلقۂ درس یہاں سے قریب ہے جا کر پوچھے، یہ بھی کہہ دیا کہ حماد جو کچھ بتائیں مجھ سے کہتی جانا۔ تھوڑی دیر کے بعد آئی اور کہا کہ حماد نے یہ جواب دیا۔ امام صاحبؒ فرماتے ہیں۔ مجھ کو سخت حیرت ہوئی اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا اور حماد کے حلقۂ درس میں جا بیٹھا۔
حمادؒ کی شاگردی
حمادؒ کوفہ کے مشہور امام اور استادِ وقت تھے۔ حضرت انسؓ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص تھے،حدیث سنی تھی اور بڑے بڑے تابعین کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے تھے۔ اس وقت کوفہ میں انہی کا مدرسہ مرجعِ عام سمجھا جاتا تھا۔ اس مدرسۂ فکر کی ابتداء حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان کے شاگرد شریحؒ، علقمہؒ اور مسروقؒ اس مدرسہ کے نامور ائمہ ہوئے جن کا شہرہ اس وقت تمام دنیائے اسلام میں تھا۔ پھر ابراہیم نخعیؒ اور ان کے بعد حمادؒ تک اس کی امامت پہنچی۔
حضرت علیؓ و عبد اللہ بن مسعودؓ سے فقہ کا جو سلسلہ چلا آتا تھا اس کا مدار انہی پر رہ گیا تھا۔ ان وجوہ سے امام ابو حنیفہؒ نے علمِ فقہ پڑھنا چاہا تو استادی کے لئے انہی کو منتخب کیا۔ ایک نئے طالب علم ہونے کی وجہ سے درس میں پیچھے بیٹھتے۔ لیکن چند روز کے بعد جب حماد کو تجربہ ہو گیا کہ تمام حلقہ میں ایک شخص بھی حافظہ اور ذہانت میں اس کا ہمسر نہیں ہے تو حکم دے دیا کہ ’’ ابو حنیفہؒ سب سے آگے بیٹھا کریں۔
حضرت حمادؒ کے حلقۂ درس میں ہمیشہ حاضر ہو تے رہے۔ خود امام صاحبؒ کا بیان ہے کہ ’’میں دس برس تک حمادؒ کے حلقہ میں ہمیشہ حاضر ہوتا رہا اور جب تک وہ زندہ رہے ان کی شاگردی کا تعلق کبھی نہیں چھوڑا۔ انہی دنوں حمادؒ کا ایک رشتہ دار جو بصرہ میں رہتا تھا انتقال کر گیا تو وہ مجھے اپنا جانشین بنا کر بغرض تعزیت سفر پر روانہ ہو گئے۔
چونکہ مجھ کو اپنا جانشین مقرر کر گئے تھے، تلامذہ اور اربابِ حاجت نے میری طرف رجوع کیا۔ بہت سے ایسے مسئلے پیش آئے جن میں استاد سے میں نے کوئی روایت نہیں سنی تھی اس لئے اپنے اجتہاد سے جواب دیئے اور احتیاط کیلئے ایک یادداشت لکھتا گیا۔ دو مہینہ کے بعد حماد بصرہ سے واپس آئے تو میں نے وہ یادداشت پیش کی۔ کل ساٹھ مسئلے تھے، ان میں سے انہوں نے بیس غلطیاں نکالیں، باقی کی نسبت فرمایا کہ تمہارے جواب صحیح ہیں۔ میں نے عہد کیا کہ حمادؒ جب تک زندہ ہیں ان کی شاگردی کا تعلق کبھی نہ چھوڑوں گا۔
متعدد طریق سے یہ بھی مروی ہے کہ آپؒ نے قرأت امام عاصمؒ سے سیکھی جن کا شمار قراءِ سبعہ میں ہو تا ہے اور انہیں کی قرأت کے مطابق قرآن حفظ کیا۔
حدیث کی تحصیل
حمادؒ کے زمانہ میں ہی امام صاحبؒ نے حدیث کی طرف توجہ کی کیونکہ مسائلِ فقہ کی مجتہدانہ تحقیق جو امام صاحبؒ کو مطلوب تھی حدیث کی تکمیل کے بغیر ممکن نہ تھی۔ لہذا کوفہ میں کوئی ایسا محدث باقی نہ بچا جس کے سامنے امام صاحبؒ نے زانوئے شاگردی تہ نہ کیا ہو اور حدیثیں نہ سیکھیں ہوں۔ ابو المحاسن شافعیؒ نے جہاں ان کے شیوخِ حدیث کے نام گنائے ہیں، ان میں ترا نوے (۹۳) شخصوں کی نسبت لکھا ہے کہ وہ لوگ کوفہ کے رہنے والے یا اس اطراف کے تھے۔ اور ان میں اکثر تابعی تھے۔
مکہ کا سفر
امام ابو حنیفہؒ کو اگرچہ ان درسگاہوں سے حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ ہاتھ آیا۔ تاہم تکمیل کی سند حاصل کر نے کے لئے حرمین جانا ضروری تھا جو علومِ مذہبی کے اصل مراکز تھے۔ جس زمانہ میں امام ابو حنیفہؒ مکہ پہنچے۔ درس و تدریس کا نہایت زور تھا۔ متعدد اساتذہ جو فنِ حدیث میں کمال رکھتے تھے اور اکثر صحابہؓ کی خدمت سے مستفید ہوئے، انکی الگ الگ درسگاہ قائم تھی۔ ان میں عطا ئؒ مشہور تابعی تھے جو اکثر صحابہؓ کی خدمت میں رہے اور ان کی فیضِ صحبت سے اجتہاد کا رتبہ حاصل کیا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، ابن عمرؓ، ابن زبیرؓ، اسامہ بن زیدؓ، جابر بن عبداللہؓ، زید بن ارقمؓ، ابو دردائؓ، ابوہریرہؓ اور بہت سے صحابہ سے حدیثیں سنی تھیں۔ مجتہدین صحابہؓ ان کے علم و فضل کے معترف تھے۔ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے تھے کہ ’’عطاء بن رباح کے ہوتے ہوئے لوگ میرے پاس کیوں آتے ہیں؟‘‘ بڑے بڑے ائمہ حدیث مثلاً اوزاعی، زُہریؒ، عمرو بن دینارؒ انہی کے حلقۂ درس سے نکل کر استاد کہلائے۔
امام ابو حنیفہؒ استفادہ کی غرض سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ روز بروز امام صاحبؒ کی ذہانت و طباعی کے جوہر ظاہر ہوتے گئے اور اس کے ساتھ استاد کی نظر میں آپ کا وقار بھی بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ جب حلقۂ درس میں جاتے تو عطاء اوروں کو ہٹا کر امام صاحبؒ کو اپنے پہلو میں جگہ دیتے۔ عطائؒ ۱۱۵ھ تک زندہ رہے اس مدت میں امام ابو حنیفہؒ ان کی خدمت میں اکثر حاضر رہے اور مستفید ہوئے۔
عطاؒ ء کے سوا مکہ معظمہ کے اور محدثین جن سے امام صاحبؒ نے حدیث کی سند لی۔ ان میں عکرمہؒ کا ذکر خصوصیت سے کیا جا سکتا ہے۔ عکرمہؒ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے غلام اور شاگرد تھے۔ انہوں نے نہایت توجہ اور کوشش سے ان کی تعلیم و تربیت کی تھی یہاں تک کہ اپنی زندگی ہی میں اجتہاد و فتویٰ کا مجاز کر دیا تھا۔ امام شعبیؒ کہا کرتے تھے کہ قرآن کا جاننے والا عکرمہؒ سے بڑھ کر نہیں رہا۔ سعید بن جبیرؒ سے کسی نے پوچھا کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر بھی کوئی عالم ہے فرمایا: ہاں! عکرمہؒ۔
مدینہ کا سفر
اسی زمانہ میں ابو حنیفہؒ نے مدینہ کا قصد کیا کہ حدیث کا مخزن اور نبوت کا اخیر قرار گاہ تھی۔ صحابہ کے بعد تابعین کے گروہ میں سے سات اشخاص علم فقہ و حدیث کے مرجع بن گئے تھے۔ امام ابو حنیفہؒ جب مدینہ پہنچے تو ان بزرگوں میں سے صرف دو اشخاص زندہ تھے سلیمانؒ اور سالم بن عبد اللہؒ۔ سلیمان حضرت میمونہؓ کے جو رسولﷺ کی ازواج مطہراتؓ میں سے تھیں، غلام تھے۔ اور فقہاء سبعہ میں فضل و کمال کے لحاظ سے ان کا دوسرا نمبر تھا۔ سالمؒ حضرت فاروق اعظمؓ کے پوتے تھے اور اپنے والد بزرگوار سے تعلیم پائی تھی۔ امام ابو حنیفہؒ دونوں بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے حدیثیں روایت کیں۔
امام ابو حنیفہؒ کی تعلیم کا سلسلہ اخیر زندگی تک قائم رہا اکثر حرمین جاتے اور مہینوں قیام کر تے تھے۔ آپ نے وہاں کے فقہاء و محدثین سے تعارف حاصل کیا اور حدیث کی سند لی۔
امام صاحبؒ کے اساتذہ
امام ابو حفص کبیرؒ نے امام ابو حنیفہؒ کے اساتذہ کے شمار کرنے کا حکم دیا۔ حکم کے مطابق شمار کئے گئے تو ان کی تعداد چار ہزار تک پہنچی۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں جہاں ان کے شیوخِ حدیث کے نام گنائے ہیں اخیر میں لکھ دیا ہے ’’وخلق ٌکثیرٌ‘‘۔ حافظ ابو المحاسن شافعیؒ نے تین سوانیس(۳۱۹) شخصیتوں کے نام بقیدِ نسب لکھے ہیں۔
امام صاحبؒ نے ایک گروہِ کثیر سے استفادہ کیا جو بڑے بڑے محدث اور سند و روایت کے مرجعِ عام تھے۔ مثلاً اما م شعبیؒ، سلمہ بن کہیلؒ، ابو اسحاق سبعیؒ، سماک بن حربؒ، محارب بن ورثائؒ، عون بن عبد اللہؒ، ہشام بن عروہؒ، اعمشؒ، قتادہؒ، شعبہؒ اور عکرمہؒ۔ ہم مختصراً آپؒ کے خاص خاص شیوخ کا ذکر کر رہے ہیں جن سے آپؒ نے مدتوں استفادہ کیا ہے۔
امام شعبیؒ۔ یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے اول اول امام ابو حنیفہؒ کو تحصیلِ علم کی رغبت دلائی تھی۔ بہت سے صحابہؓ سے حدیثیں روایت کی تھیں۔ مشہور ہے کہ پانسو صحابہؓ کو دیکھا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان کو ایک بار مغازی کا درس دیتے دیکھا تو فرمایا کہ ’’ واللہ! یہ شخص اس فن کو مجھ سے اچھا جانتا ہے‘‘۔ ۱۰۶ھ میں وفات پائی۔
سلمہ بن کہیلؒ مشہور محدث اور تابعی تھے۔ ابن سعدؒ نے ان کو کثیر الحدیث لکھا ہے۔ ابن مہدیؒ کا قول تھا کہ کوفہ میں چار اشخاص سب سے زیادہ صحیح الروایت تھے: منصورؒ، سلمہ بن کہیلؒ، عمرو بن مرہؒ، ابو حصینؒ۔
ابو اسحاق سبیعیؒ کبارِ تابعین میں سے تھے۔ عبد اللہؓ بن عباسؒ، عبد اللہ بن عمرؓ، ابن زبیرؓ، نعمان بن بشیرؓ، زید بن ارقمؓ سے حدیثیں سنی تھیں۔ عجلیؒ نے کہا ہے کہ اڑتیس صحابہؓ سے ان کو بالمشافہ روایت حاصل ہے۔
محاربؒ بن ورثاء نے عبد اللہ بن عمرؓ اور جابرؓ وغیرہ سے روایت کی۔ امام سفیان ثوریؒ کہا کر تے تھے کہ ’’ میں نے کسی زاہد کو نہیں دیکھا جس کو محاربؒ پر ترجیح دوں‘‘۔
علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ ’’محاربؒ عموماً حجت ہیں۔ ‘‘ کوفہ میں منصبِ قضا پر معمور تھے۔ ۱۱۶ھ میں وفات پائی۔
عونؒ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور عبد اللہ بن عمرؓ سے حدیثیں روایت کیں۔ نہایت ثقہ اور پرہیزگار تھے۔
ہشام بن عروہؒ معزز و مشہور تابعی تھے بہت سے صحابہؓ سے حدیثیں روایت کیں۔ بڑے بڑے ائمۂ حدیث مثلاً سفیان ثوریؒ، امام مالکؒ، سفیان بن عیینہؒ ان کے شاگرد تھے۔
خلیفہ منصور ان کا احترام کیا کر تا تھا۔ ان کے جنازہ کی نماز بھی منصور نے ہی پڑھائی تھی ابن سعدؒ نے لکھا ہے وہ ثقہ اور کثیر الحدیث تھے۔
اعمشؒ کوفہ کے مشہور امام تھے۔ صحابہؓ میں سے انس بن مالکؓ سے ملے تھے اور عبدللہ بن اونیؒ سے حدیث سنی تھی۔ سفیان ثوریؒ اور شعبہؒ ان کے شاگرد ہیں۔
قتادہؒ بہت بڑے محدث اور مشہور تابعی تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ و عبد اللہ بن سرخسؓ و ابو الطفیلؓ اور دیگر صحابہ سے حدیثیں روایت کیں۔ حضرت انسؓ کے دو شاگرد جو نہایت نامور ہیں ان میں ایک ہیں۔ اس خصوصیت میں ان کو نہایت شہرت تھی کہ حدیث کو بعینہ ادا کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبلؒ نے ان کی فقہ و واقفیتِ اختلاف و تفسیر دانی کی نہایت مدح کی ہے اور کہا ہے کہ ’’کو ئی شخص ان باتوں میں ان کے برا بر ہو تو ہو مگر ان سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔
شعبہؒ بھی بڑے رتبہ کے محدث تھے۔ سفیان ثوریؒ نے فن حدیث میں ان کو امیر المومنین کہا ہے۔ عراق میں یہ پہلے شخص ہیں جس نے جرح و تعدیل کے مراتب مقرر کئے۔ امام شافعیؒ فرمایا کر تے تھے کہ شعبہؒ نہ ہو تے تو عراق میں حدیث کا رواج نہ ہوتا۔ شعبہؒ کا امام ابو حنیفہ کے ساتھ ایک خاص ربط تھا۔ غائبانہ ان کی ذہانت و خوبئ فہم کی تعریف کر تے تھے۔ ایک بار امام صاحبؒ کا ذکر آیا تو کہا جس یقین کے ساتھ میں یہ جانتا ہوں کہ آفتاب روشن ہے اسی یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ علم اور ابو حنیفہؒ روشن ہیں۔
یحیٰ بن معین (جو امام بخاریؒ کے استاذ ہیں) سے کسی نے پوچھا کہ آپ ابو حنیفہؒ کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ فرمایا اس قدر کافی ہے کہ شعبہؒ نے انکو حدیث و روایت کی اجازت دی اور شعبہ آخر شعبہؒ ہی ہیں۔ بصرہ کے اور شیوخ جن سے ابو حنیفہؒ نے حدیثیں روایت کیں۔ ان میں عبد الکریم بن امیہؒ اور عاصم بن سلیمان الاحولؒ زیادہ ممتاز ہیں۔
استاد کی عزت
امام صاحبؒ کو طلبِ علم میں کسی سے عار نہ تھی۔ امام مالکؒ عمر میں ان سے تیرہ برس کم تھے۔ ان کے حلقۂ درس میں بھی اکثر حاضر ہوئے اور حدیثیں سنیں۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں لکھا ہے کہ امام مالکؒ کے سامنے ابو حنیفہؒ اس طرح مؤدب بیٹھتے تھے جس طرح شاگرد استاد کے سامنے بیٹھتا ہے۔ اس کو بعض کوتاہ بینوں نے امام صاحبؒ کی کسرِ شان پر محمول کیا ہے لیکن ہم اس کو علم کی قدر شناسی اور شرافت کا تمغہ سمجھتے ہیں۔
امام صاحبؒ کی قدر
امام صاحبؒ کے اساتذہ ان کا اس قدر ادب و احترام کرتے تھے کہ لوگوں کو تعجب ہوتا تھا۔ محمد بن فضلؒ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ امام ابو حنیفہؒ ایک حدیث کی تحقیق کے لئے خطیبؒ کے پاس گئے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ خطیبؒ نے ان کو آتے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت تعظیم کے ساتھ لا کر اپنے برابر بٹھایا۔
عمرو بن دینارؒ جو مکہ کے مشہور محدث تھے۔ ابو حنیفہؒ کے ہوتے ہوئے حلقۂ درس میں اور کسی کی طرف خطاب نہیں کرتے تھے۔
امام مالکؒ بھی ان کا نہایت احترام کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن مبارکؒ کی زبانی منقول ہے کہ میں امام مالکؒ کے درسِ حدیث میں حاضر تھا۔ ایک بزرگ آئے جن کی انہوں نے نہایت تعظیم کی اور اپنے برابر بٹھایا۔ ان کے جانے کے بعد فرمایا ’’ جانتے ہو یہ کون شخص تھا؟ یہ ابو حنیفہؒ عراقی تھے جو اس ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ ‘‘ ذرا دیر کے بعد ایک اور بزرگ آئے امام مالکؒ نے ان کی بھی تعظیم کی لیکن نہ اس قدر جتنی ابو حنیفہؒ کی کی تھی، وہ اٹھ گئے تو لوگوں سے کہا ’’یہ سفیان ثوریؒ تھے۔ ‘‘
علمی ترقی کا ایک سبب
امام صاحبؒ کی علمی ترقی کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ ان کو ایسے بڑے بڑے اہل کمال کی صحبتیں میسر آئیں جن کا ابھی تذکرہ گزرا۔ اور جن شہروں میں ان کو رہنے کا اتفاق ہوا یعنی کوفہ، بصرہ، مکہ اور مدینہ، یہ وہ مقامات تھے کہ مذہبی روایتیں وہاں کی ہوا میں سرایت کر گئی تھیں۔ علماء سے ملنے اور علمی جلسوں میں شریک ہو نے کا شوق امامؒ کی خمیر میں داخل تھا۔ ساتھ ہی ان کی شہرت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ جہاں جاتے تھے استفادہ، ملاقات، مناظرہ کی غرض سے خود ان کے پاس ہزاروں آدمیوں کا مجمع رہتا تھا۔
تاریخِ بغداد کے حوالہ سے شیخ ابو زہرہ لکھتے ہیں۔ ’’ ایک روز امام ابو حنیفہؓ منصور کے دربار میں آئے وہاں عیسی بن موسی بھی موجود تھا اس نے منصور سے کہا یہ اس عہد کے سب سے بڑے عالم دین ہیں۔
منصور نے امام صاحب کو مخاطب ہو کر کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نعمان ! آپ نے علم کہاں سے سیکھا؟‘‘ فرمایا ’’حضرت عمرؓ کے تلامذہ سے، نیز شاگردانِ علیؓ سے اور تلامذۂ عبداللہ بن مسعودؓ سے۔ ‘‘ منصور بولا ’’ آپ نے بڑا قابلِ اعتماد علم حاصل کیا۔ ‘‘ (حیات حضرت امام ابو حنیفہؒ)